22 ستمبر 2011 - 20:30

تہران کی نماز جمعہ کے خطیب نے کہا ہے کہ علاقے کی قوموں کا انقلاب قومی اور اسلامی عزت و کرامت کا احیاء ہے کہ جسے اس سے قبل امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پامال کر دیا تھا۔

ابنا: حجۃ الاسلام والمسلمین کاظم صدیقی نے آج نماز جمعہ کے خطبوں میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے ملکوں میں انقلاب کی حقیقت اور عوامل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان ملکوں کے عوام نے سامراج کے خلاف جہاد اور جدوجہد کو اپنے عمل میں دکھایا ہے اور توپوں اور ٹینکوں سے مسلح آمرانہ حکومتوں کے سامنے ڈٹ گئے۔

خطیب جمعہ تہران نے مساجد اور نماز جمعہ کے خطبوں سے عوامی تحریکوں کے آغاز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے ممالک کا اسلامی انقلاب کسی خاص جماعت سے تعلق نہیں رکھتا ہے اور عوام اپنا کھویا ہوا تشخص دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اسلامی پسندی کو علاقے کے ممالک کے انقلاب کی نمایاں خصوصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان انقلابات میں بین الاقوامی صہیونزم اور عالمی سامراج کا مقابلہ آشکار ہو گيا۔

خطیب نماز جمعہ تہران نے اسی طرح تہران میں پہلی اسلامی بیداری کانفرنس کے انعقاد کو اس اجلاس میں مختلف ممالک کی ممتاز شخصیات کی شرکت اور وقت کے لحاظ سے اہم قرار دیا۔
حجۃ الاسلام و المسلمین کاظم صدیقی نے افغانستان کے سابق صدر اور اعلی امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مجاہد افغان شخصیت اپنے ملک پر امریکی قبضے کے خلاف تھی اور افغانستان پر قابض افواج کو اس قتل کا جوب دہ ہونا پڑے گا۔
 
........

/169